اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، اسٹاک ہوم بین الاقوامی امن تحقیقات کے مرکز نے
رپورٹ دی ہے کہ امریکہ نے سنہ 2019 سے لیکر 2023 تک، صہیونی ریاست کے 69 فیصد ہتھیار
فراہم کیے ہیں۔ یہ حجم سنہ 2023 میں بڑھ کر 78 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، دسمبر 2023 میں امریکہ نے 2 ارب
40 کروڑ ڈالر پر مشتمل 10 ہزار ٹن ہتھیار اسرائیل کے حوالے کئے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ اگست کے مہینے میں 50 ہزار
ٹن ہتھیار دسیوں جہازوں اور مال بردار طیاروں کے ذریعے اسرائیل پہنچائے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ان ہتھیاروں میں آئرن ڈوم کے میزائل،
ٹھیک نشانے پر لگنے والے بم، سی ایچ 53 بھاری جنگی ہیلی کاپٹر، اے ایچ 64 جنگی ہیلی
کاپٹر، توپ اور بکتربند گاڑیاں شامل ہیں۔
صہیونی ریاست کو امریکہ کی فوجی امداد سنہ 1946
سے اب تک 310 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
دریں اثنا، امریکہ کے سالانہ بجٹ میں کم سے کم
3/8 ارب ڈالر کی رقم صہیونیوں کی فوجی امداد کے لئے مقرر کردی گئی ہے۔
یہ فوجی امداد ایسی حالت میں جاری ہے کہ غزہ پر
ان ہتھیاروں کے بھیانک اثرات کے بارے میں مسلسل رپورٹیں منظر عام پر آرہی ہیں۔
نکتہ:
صہیونیوں نے امریکہ اور یورپ کے فراہم کردہ
ہتھیار اب تک فلسطین، لبنان اور شام پر استعمال کئے ہیں؛ غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا
دی ہے، لبنان کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، شام کی پوری فوج اور اس کے تمام اڈوں اور
چھاؤنیوں اور سازو سامان کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور یمن پر بھی یہی امریکی اور
یورپی ہتھیار استعمال کئے ہیں، گویا بڑا شیطان بنا رہا ہے، چھوٹا شیطان استعمال کر
رہا ہے اور جو شیطان سے روزانہ کئی مرتبہ اللہ کی پناہ مانگتے ہيں، وہ خاموش
تماشائی بنے ہوئے ہیں، گوکہ اگر ان کا یہی رویہ جاری رہا تو یہی مغربی ہتھیار ان
کے گھروں اور مراکز اور بنیادی ڈھانچوں کو بھی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کریں گے،
عنقریب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110